آل ابراہیمؑ کے وارث یہود ونصاریٰ نہیں سچے مسلمان ہیں‘ پیر سید عرفان شاہ مشہدی

0
124

برانکس‘ جامع مسجد نورالہدیٰ میں میلاد مصطفیؐ  کی فکر انگیز محفل

برانکس ‘نیویارک (منظور حسین سے) عصر حاضر میں دنیائے اسلام کے چمکتے ستارے سنیوں کے شہنشاہ خطیب العصر فخر اہل سنت والجماعت حضرت علامہ پیر سید محمد عرفان شاہ مشہدی موسوی نے کہا ہے کہ قرآن کو پڑھنے‘ اسے سمجھنے والے اور اس پر عمل کرنے والے ہی اصل اللہ والے ہیں ۔ وہ گزشتہ جمعتہ المبارک کو جامع مسجد نورالہدیٰ میں عید میلاد النبیؐ کے سالالانہ اجتماع سے خطاب کررہے تھے اپنے پر فکر خطاب میں علامہ محمد عرفان شاہ مشہدی کا کہناتھا کہ قرآن پاک اور حدیث پاک میں سب سے زیادہ فضائل ان لوگوں کے بیان ہوئے ہیں جن کے سینے میں اللہ تعالیٰ کا قرآن ہے اور جو قرآن والے ہیں وہ اللہ والے ہیں اور اس کے خاص بندے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جو سرمایہ مسجد سے تعلق رکھتا ہے وہ خلاء نوردی نہیں وہ خلا ء سے بھی اوپر کی بات ہے۔حضرت عزیر علیہ السلام کا واقعہ تفصیل سے بیان کرتے ہوئے علامہ پیر محمد عرفان شاہ نے فرمایا کہ نبی کے بغیر کسی کو کتاب پوری یاد یا حفظ نہیں ہوتی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اعزاز صرف آنحضورؐ کی امت کو حاصل ہے کہ آپ ؐ کی امت کا بچہ بچہ اللہ کی کتاب کا حافظ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ترمذی شریف کی حدیث ہے کہ جس کے سینے میں قرآن ہے اس کے دونو ں کندھوں کے درمیان نبوت کا پورا پیغام لکھ دیا گیا ہے۔ابن ماجہ کے مطابق قیامت کے دن حفاظ کو نور کے تاج پہنائے جائیں گے اور نور کے ممبروں پر بٹھایا جائے گااور انہیں شفاعت سے سرفراز کیا جائے گا اور اللہ ان حفاظ کی وجہ سے کئی لوگوں کو جہنم کی آگ سے شفاعت عطا ء فرمائے گا۔اللہ کا فرمان ہے قرآن ہم نے اتارا ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جس بچے نے قرآن حفظ کیا اور بعد میں اسے حفظ کرایا اس نے دونوں کام کئے ایک نبی والا اور ایک اللہ والا کیونکہ حفاظت اللہ والا کام ہے جو اس نے حفظ کر کے کر لیا اور قراء ت والا کام جو یہ تلاوت کرتا رہے گا۔پیر عرفان شاہ صاحب کا کہنا تھا کہ خلائی گاڑیاں اور خلاء کی باتیں کرنے والے خلائی گاڑیاں اڑا سکتے ہیں تو رات کے چار صفحہ زبانی نہیں سنا سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک یہودی کو داؤد علیہ السلام کے مزار پر ملنگوں کی طرح ناچتے دیکھا ناچ ناچ کر زبور پڑھ رہا تھا جس پر میں نے اپنے شاگرد جو میرے ساتھ تھا اسے کہا کہ اس یہودی سے کہو کہ جو ناچ ناچ کر تم پڑ ھ رہے ہو اسے زبانی پڑھو تو اس یہودی نے کہا یہ تو ممکن ہی نہیں تو میں نے کہا کہ اس سے کہو اگر اجازت ہو تو میں تمہیں ناچ ناچ کر قرآن سناؤں۔ان کا کہناتھا کہ برطانوی یا امریکی پاسپورٹ کا ایک فائدہ تو ضرور ہے کہ اگر کسی نے جدالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مزار کی زیارت کرنی ہو تو اسے کوئی روک ٹوک نہیں ہے ان کا کہنا تھا کہ باقی جس قدر ان پاسپورٹس کا فائدہ ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے سب سے زیادہ اس پاسپورٹ کا یہ فائدہ ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مزار پر حاضری دی۔ آنحضور ؐ کا فرمان ہے کہ میں ابراہیم علیہ السلام سے سب زیادہ مشابہ ہوں اللہ کا فرمان ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلا م سے یہود ونصاریٰ سب پیار کرتے ہیں مگر یاد رکھو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حقیقی وارث آنحضورؐکی ذات اقدس ہے ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام یہودی یا نصرانی نہیں تھے بے شک آپ ایک سچے مسلمان تھے اور ان کا وارث کون ہے جوحضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کرے اور پیروی کرنے والا حضرت محمد مصطفی ؐ کی ذات سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ آل ابراہیم ہونا نسب نہیں ایمان کا ہونا ضروری ہے جو ان کی پیروی کرنے والا اور ان کے عقائد کا وارث ہے وہ آل ابراہیم ہے جو محمد رسول ؐ کے مومن بندے ہیں وہ آل ابراہیم اور ان کے دین کے صحیح وارث ہیں۔علامہ محمد عرفان شاہ کا کہنا تھا کہ امریکہ میں قرآن پاک کو حفظ اور اسے پڑھنے والے بچے مبارکباد کے مستحق ہیں کہ وہ سخت ٹائم ٹیبل اور تھوڑے وقت میں زیادہ قرآن کو پڑھ رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ آج جو علماء بچوں کو مارپیٹ رہے ہیں وہ صحیح نہیں۔سوٹی سے مارنا تعزیر ہے زیادہ سے زیادہ ہاتھ کے پنجے سے آپ مار سکتے ہیں ۔نہ ہی آپ کسی کو انگلیوں کے زور اور نہ ہی مکا بنا کر مارپیٹ سکتے ہیں اور چہرے پر مارنا تو کسی صورت قبول نہیں یعنی تادیب سے مارسکتے ہیں جس سے سختی سے مارنا مقصود نہیں طریقہ سکھانا مقصودہے۔سوٹی سے مارنا تعزیر ہے اور زخمی کردو گے تو یہ تشدد ہوا یعنی آپ نے جو حد مقرر کر دی حدود کر دی۔ان کاکہنا تھا کہ اگر اجازت ہوتی تو بچوں کو سوٹیوں سے مارنا جہالت اور لا علمی کی بات ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اہل اسلام جہاں جہاں قرآن پڑھایا جاتاہے ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ بچوں کو مارنا پیٹنا غلط ہے ۔تادیب اور چیز ہے ‘ تحدید اور چیز ہے۔ تعلیم کے ضابطے میں سرکار دو عالم نے ان ظالمانہ اقدام کی اجازت نہیں فرمائی۔ تعزیر کے اندر بھی سرکار نے صرف 10کوڑوں کی اجازت فرمائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آقا کا فرمان ہے کہ جس کے سینے میں سات آیتیں ہو ں گی اللہ اسے عذاب قبر سے آزاد فرما دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ملک کا نامی گرامی بیرسٹر اور وزیر داخلہ سورہ اخلاص کو نہیں پڑھ سکتا۔ آپ کا کہنا تھا کہ جو مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوا اور اسے قرآن پڑھنا نہیں آیا تو اسے اپنی فکر کرنی چاہئے۔علامہ محمد عرفان شاہ کا کہنا تھا کہ میلاد میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ ؐ کو حد سے نہ بڑھاؤ میں ان سے کہتا ہوں مولوی صاحب شروع تو کرو پہلے ہی شروع ہو جاتے ہو حد سے نہ بڑھاؤ میں بتاتا ہوں کہ علماء اور مفسرین نے 100جلدیں لکھ دیں پھر بھی آپؐ کی سیرت ختم نہیں ہوتی۔مجھے بتایا جائے کہ آپ ؐ کیلئے100جلد یں کیوں لکھی گئیں؟ جب آپ لوگ شروع میں ہی گردان شروع کر دیتے ہیں کہ حد سے نہ بڑھاؤ۔میں کہتا ہوں کہ حد سے پہلے بھی بہت کچھ ہے مولودی صاحب وہ تو بیان کر دیں۔ان کا کہنا تھا کہ جس شخص کو اپنے دل پر رسول اللہ ؐکا قبضہ محسوس ومعلوم نہیں اور آپ کی ولایت کا یقین نہیں تو ایسا شخص ایمان کا ذائقہ بھی نہیں چکھ سکے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اپنے نفس اور جان کا مالک رسول اللہ ؐکو مانیں جو مانتا ہے اس کو پتہ چلتا ہے کہ ایمان کیا چیز ہے۔ آپ ؐ مومنوں کی جانوں سے زیادہ قریب ہیں جس نے آپ ؐکی ولایت اپنی جان پر محسوس کرلی اس کو ایمان کی لذت محسوس ہوتی ہے۔ عید میلادالنبی ؐ کے جلسہ وجلوس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان سے تشریف لائے ہوئے نوجوان عالم دین اور پاکستان کے مشہور زمانہ عالم علامہ مولانا ضیاء الحق کے صاحبزادے سید احسان الحق شاہ نے کہا کہ درود پاک پڑھنے سے دس گناہ معاف ہوتے ہیں دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دس درجات بلند ہوتے ہیں اس لیے جب بھی درود پاک پڑھا جائے ہمیں خاموش نہیں رہنا چاہئے۔مولانا احسان الحق نے کہاکہ اللہ نے ہمیں یہ شرف بخشا کہ ایک تو ہمیں 18ہزار مخلوقات میں سے اشرف بنایا اور اس سے بڑھ کر آنحضور ؐکی امت میں پیدا کیا اور پھر اس پر احسان یہ کیا کہ ہمیں آنحضور ؐ کے وفاداروں میں رکھا نہ کہ غداروں میں ۔ان کا کہنا تھا کہ صحابہ کا راستہ ہی اصل جنت اور آنحضور ؐکا راستہ ہے۔ٹامزر یور نیوجرسی کے مشہور امریکی ممتاز عالم دین علامہ مولانا مقصود احمد قادری نے کہا کہ اللہ نے مسلمانوں کے ساتھ بڑی شفقت اور محبت کی اور آنحضور ؐ کی ذات اقدس ہمیں نصیب فرمائی۔ان کا کہنا تھا کہ قرآن میں چار مرتبہ لفظ محمد اور ایک مرتبہ احمد کا نام گرامی کا ذکر ہے۔بچوں کو انگریزی خطاب میں انہوں نے کہا کہ کئی علماء فقہا کے مطابق آنحضور ؐ کے نام کے 350 مطلب ومعنی ہے جبکہ کئی فقہا کے مطابق آپ ؐ کے نام کے 450 اور کئی کے مطابق آپ ؐ کے نام کے0 100معنی ہیں۔آپ ؐ کا فرمان ہے کہ دنیا میں سب سے بہتر پانی زم زم ہے۔ان کا کہناتھا کہ آنحضور ؐکا نام تورات وانجیل میں بھی ہے۔اس موقع پر مسجد نورالہدیٰ کے مہتمم برطانیہ سے امریکی سرزمین پر دین کی ترویج کا بیڑا اٹھانے والے نوجوان عالم دین علامہ مدثر حسین نقشبندی نے حاضرین کو اپنے طلباء کے حفظ قرآن اور تجوید کے حوالے سے بتایا۔ان کا کہنا تھا کہ مسجد نورالہدیٰ بچوں کو امریکی سرزمین پر دین اسلام کی آبیاری کیلئے جدوجہد کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کررہا ۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے بچے علاقے بھر کیلئے قابل فخر سرمایہ ہیں جہاں ان کے زیر تربیت بچوں میں افریقہ‘ امریکہ ‘پاکستان اور بنگلہ دیش کے بچے شامل ہیں جو قرآن اور ناظرہ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔آخر پر انہوں نے مسجد انتظامیہ اور محفل میلاد میں تعاون کرنے والوں کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔پاکستان سے تشریف لائے ہوئے بین الاقوامی شہرت یافتہ نعت خواں حاجی فصیح الدین سہروردی نے خوبصورت نعت پیش کر کے سماں باندھ دیا۔محفل پاک کے آخر میں مولانا مدثر حسین نقشبندی نے مسجد انتظامیہ کے صدر راجہ جاوید ‘ راجہ رضوان‘ ظفرکی جانب سے پروگرام کامیاب بنانے پران کا شکریہ ادا کیا۔ محفل پاک میں علامہ فضل رسول چشتی نے اپنی خوبصورت آواز میں نعت پاک پڑھی۔محفل میں شریک مدرسہ طلباء احمد سلمان‘ ارسلان چوہدری‘ فرحان چوہدری ‘ راجہ ظفر کے صاحبزادے عثمان ظفر ‘راجہ طارق کے صاحبزادے راجہ زریاب طارق اور حافظ عبداللہ مسعود کو قرآن پاک حفظ کرنے پر اعزازی سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here